دور کے ڈھول

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ مجازا ]  دور کی آواز؛ رسائی سے دور خوشی یا رونق۔ "ہندوستان کو تو اپنی طرف سے پہلے بھی مایوسی تھی لیکن مصر و شام و ایران دور کے ڈھول تھے۔"      ( ١٩٠٦ء، مقالات شبلی، ٦٩:٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'دور' کے ساتھ حرف اضافت 'کے' اور سنسکرت سے ماخوذ لفظ 'ڈھول' لگا کر مرکب اضافی بنایا گیا ہے۔ اس میں 'دور' مضاف الیہ اور 'ڈھول' مضاف ہے۔ اردو میں ١٨٩٣ء کو "انشائے داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ مجازا ]  دور کی آواز؛ رسائی سے دور خوشی یا رونق۔ "ہندوستان کو تو اپنی طرف سے پہلے بھی مایوسی تھی لیکن مصر و شام و ایران دور کے ڈھول تھے۔"      ( ١٩٠٦ء، مقالات شبلی، ٦٩:٨ )

جنس: مذکر